اسلام علیکم دوستو۔ پچھلی 2 پوسٹس میں آپ لوگوں کی دلچسپی کو ملحوظ رکھتے ہوئے آج فارما کی اس مخلوق کا زکر کرنے جا رہا ہوں جسکو ہم مینیجر کے نام سے جانتے ہیں۔ مرکزی مضمون کی طرف آنے سے پہلے یہ بتاتا چلوں کے فارما میں اگر آج جان باقی ہے تو اسکے روح رواں وہ چند سینئیرز ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنا تجربہ آگے آنے والی نئی جنریشن میں منتقل کیا ہے اور ان نکات کو بہتر کرنے کی کوشش کی جہاں انہیں خود مشکلات پیش آئیں یا وہ اپنے محدود اختیارات کی وجہ سےبطور میڈیکل ریپ ان چیزوں کو بہتر نہ کر سکے۔ قارئین سے درخواست ہے کے اگر مضمون پسند آئے تو لازمی شئیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔
آٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے مجھے فارماسیوٹیکلز میں کام کرتے ہوئے اور آٹھ سال کے عرصے میں کافی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا مگر انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کے ماسوائے چند چھوٹی کمپنیوں کے کہیں کوئی ایسا گوہر نایاب نہیں ملا جسنے صحیح معنوں میں گائیڈ کیا ہو یا اصلاح کی ہو۔
مینیجرز کی جو اقسام میں نے دریافت کی ہیں انکو میں یہاں انکے تکیہ کلام جو وہ عموماً فیلڈ میں استعمال کرتے ہیں سے بیان کروں گا۔ آپکے والے کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
1) مجھے بس سیلز چاہیئیں
یہ قسم فالتو مقدار میں ہماری فارما میں پائی جاتی ہے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا فالتو مقدار میں تو یقین مانیں مینیجر کی یہ قسم سب سے فالتو قسم ہے. یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ خود کام کیا اور نہ یہ اپنے جونئیرز کو کرنے دیتے ہیں۔ انکی وہ باتیں جو گھر والے بھی نہیں سنتے میڈیکل ریپ کو سنواتے ہیں۔ میڈیکل ریپ کا جوش و ولولہ بڑھانے کیُلئے انکی تقریر کا آغاز "بھائی عزت اسی میں ہے کے سیلز کرو'' اور اختتام " اپنی سیلز بہتر کر لو یا کمپنی اور دیکھ لو'' پر ہوتا ہے۔ انکی آواز کی پچ اتنی ہائی ہوتی ہےکانوں میں رووئی ڈال کر سننا زیادہ بہتر ہے ورنہ کانوں کے پردے متاثر ہونیکا خدشہ رہتا ہے ۔انکے لیئے سب کچھ انکے اوپر بیٹھی ہوئی اعلیٰ قیادت ہوتی ہے جو اس انتظار میں ہوتی ہے کے بے جا پریشر کیوجہ سے میڈیکل ریپ زبان کھولے اور مینیجر کا پتہ صاف ہو۔ خیر ان سے نمٹنے کا بہترین حل یہ ہے کے اپنی برداشت کو بڑھائیں اور یہ سب باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتے رہیں اور اگر بات حد سے بڑھنے لگے تو کمپنی سے ایکٹیویٹی کا مطالبہ کریں۔ اور ہاں کوشش کریں کے ان باتوں کو ریکارڈ کریں تا کہ ضرورت پڑنے پر کام آئیں۔
2) کم س کم اپنی فیملی کا ہی خیال کر لو
اوپر بیان کی گئی قسم اور اس قسم میں ایک چیز مشترق ہے وہ ہیں سیلز۔ یہ ذرا مجبور قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ کچھ اخلاقیات سے بھی واسطہ ہوتا ہے اسلئیے سیدھے مدعے پر آنے کی بجائے گھما پھرا کر بات کرتے ہیں۔ والیم انکا زرہ دھیما ہوتا ہے کے کانوں کو انکے ہونٹوں میں گھسا کر سننا پڑتا ہے۔ انکی جوش و ولولہ سے بھرپور تقریر کا آغاز ہوتا ہے "یار ہم کس کے لئیے کما رہے ہیں؟'' اور اختتام ہوتا ہے "بھائی میرا اور اپنا نہیں تو اپنی فیملی کا ہی خیال کر لو'' پر ہوتا ہے۔ اور اکثر یہ حربہ سادہ لوح میڈیکل ریپ پر کارگر ثابت ہوتا ہے اور کام نکل جاتا ہے مگر کام نکلنے کے ساتھ میڈیکل ریپ کا دوالیہ بھی نکل جاتا ہے۔ بہر طور ان سے بچنے کیلئے یاد رکھیں کے "روتی عورت اور ہنستے مرد پر کبھی اعتبار نہ کریں'' فارما میں اس کہاوت کو الٹا کر لیں۔
3) اتنی سیلز تو میں بھی کر سکتا ہوں۔
انتہائی اوور کونفیڈینٹ اس قسم کیلئیے مجھے شاہ رخ خان کا وہ ڈائلاگ یاد آتا ہے "نینا تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ساری دنیا کا بوجھ تمہارے نازک کندھوں پر ہے''. آپکی سیلز سے کبھی خوش نہیں ہوں گے بلکہ ہر مقام پر ایک ہی تکیہ کلام ہوگا "اتنی یا اس سے زیادہ سیلز تو میں کر لوں گا'' (بھائی آپ مہربانی کریں اسی سیلز میں اپنی سیلز بھی شامل کر دیں تاکہ دونوں کو فائدہ ہو)۔ خود پسندی اور اپنی تعریف سننا انکی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ انکے منہ پر زیادہ تر مصنوعی مسکراہٹ کا راج رہتا ہے اور اپنی طرف سے انکو لگتا ہے ان سے زیادہ ملنسار اور سنجیدہ انسان کوئی ہے ہی نہیں اور اگر یہ نہ ہوں تو کاروبارِ دنیا ہی رک جائے۔ کمپنی کے مالک سے لے کر میڈیکل ریپ تک بقول انکے سب مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں ما سوائے خود انکے۔ انکی تقریر کا آغاز و اختتام خود انہیں ہی نہیں پتا ہوتا۔ جب کبھی منہ مبارک پر بارہ بجے ہوں تو سمجھ جائیں کے آج سیلز پر بات ہو گی۔ خود کو سیلز پر ہونے والی کاروائی کیلئے تیار کر لیں۔ عادت کی مجبوری کی وجہ سے پہلے حال احوال بانٹیں گے پھر ایک دم سیلز پر آیئں گے اور یہ بھی نہیں دیکھیں گے کے آس پاس کون کھڑا ہے بس تو تڑاخ سے شروع ہو جائیں گے۔ بات ایسے کریں گے جیسے کمپنی کے مالک ہوں۔ سو تھوڑی دیر انکو سنیں اور پھر کوئی ایسی بات جس میں حضرت کی بڑائی بیان ہو کر دیں مثلاً سر پلیز آپ ہی گائیڈ کریں اب کیا کروں۔ بس جناب پھر دو گھنٹے انکے اپنی شان میں قصیدے سنیں کے کس طرح وہ بطور میڈیکل ریپ کتنی سیلز کرتے رہے تھے۔ اس دوران تعریفی کلمات جیسا کے زبردست، بہت اعلیٰ کیا بات ہے سر آپکی کا ورد جاری رکھیں اور پھر اگلا پورا ہفتہ مزے کریں۔ اور ہاں سیلز کو کسطرح بہتر کیا جا سکتا ہے اسکے لئیے کسی دوست سے مشورہ لیں کیونکہ یہ بات وہ طرم خاں آپکو نہیں بتائیں گے۔
4) میں آپکے ساتھ کھڑا ہوں۔
یہ وہ قسم جسکا زکر میں نے پہلے پیرا گراف میں کیا تھا۔ صحیح معنوں میں فارما کے روح رواں یہی لوگ ہیں۔ اپنی ان تھک محنت سے اوپر آتے ہیں اور ہر اس پوائنٹ پر آپکی رہنمائی کرتے جہاں خود مشکل کا شکار رہے ہوتے ہیں۔ اپنے تعلقات کو آگے پہنچاتے ہیں اور ہر طرح کی سپورٹ چاہے کمپنی سے ہو یا پلے سے میڈیکل ریپ کے ساتھ تعاون کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انکی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کے یہ اپنے ماتحت کی پوری پوری جانکاری رکھتے ہیں مثل بڑے بھائی کے۔ فارما میں جو ایک بات سیکھی اور جو ہر فیلڈ پر لاگو ہوتی ہے وہ یہ ہے کے کبھی بھی کمپنی کا انتخاب نہ کریں بلکہ باس کا انتخاب کریں۔ ایک اچھا لیڈر آپکی خوبیوں کی قدر کرنے کیساتھ ساتھ آپکی پیشہ ورانہ شخصیت میں نکھار کا سبب بھی بنتا ہے۔
انکے علاوہ اگر کوئی اور قسم سے آپ واقفیت رکھتے ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیں انشاءاللہ
اگلے حصہ میں انکا تفصیلی چیک اپ کریں گے۔
یہاں پڑھیں۔میڈیکل ریپ کیساتھ بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی
Buy VIAGRA and CIALIS at cheaper rates. Delivery all over Pakistan.
اگلے حصہ میں انکا تفصیلی چیک اپ کریں گے۔
یہاں پڑھیں۔میڈیکل ریپ کیساتھ بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی
Buy VIAGRA and CIALIS at cheaper rates. Delivery all over Pakistan.